A Higher and Holier Fast

اَفضَل تر اور پاک تر روزہ

روزہ، جب خُوشی سے رکھا جائے اور دُعا اور فیاضی اِس میں شامِل ہو جائیں تو، خُداوند کے ساتھ شِیریں رفاقت اور اُس کے ساتھ زیادہ گہرا، زیادہ ذاتی تعلُق قائم کرنے کا ضامن ہوتا ہے۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، مَیں نے دُعاگو ہو کر اُن مُقدّس رحمتوں پر غَور کِیا ہے جو ہمارا آسمانی باپ اور اُس کا پیارا بیٹا، یِسُوع مسِیح، ہمیں عطا کرتے ہیں، جب ہم روزہ کی شریعت پر خلُوص اور اِیمان کے ساتھ عمل کر کے اُن کے قرِیب آتے ہیں۔ اِس لیے، آج صبح، اپنے دِل کی گہرائیوں سے، مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم اِس شرِیعت پر اَفضَل تر اور پاک تر طریقے سے عمل کرتے ہیں تو پاک کرنے والی رُوحانی قُدرت ہماری زِندگیوں میں جاری ہوتی ہے۔ یہ اِلہٰی طریقِ عقیدت ہمیں ہمت، ہدایت، اِطمِینان، اور اِلہٰی مدد عطا کرتا ہے جو ہمارے پُورے فانی سفر میں ہمیں سنبھالے رکھتا ہے۔

اِن آخِری ایّام میں خُداوند کی طرف سے روزہ رکھنے کی پُکار اُس پیغام کی گُونج ہے جو اُس نے عہدنامہِ عتِیق کے یسعیاہ نبی کی معرفت دِیا تھا—شِفا بخش، عہد کی قُدرت، اور اِلہٰی برکت کا وہ پیغام جو خُدا کی ساری اُمّتوں کو لگاتار مُیسر ہوتا ہے۔ یسعیاہ 58 میں، خُداوند نے اپنی موعُودہ اُمّت کی نِگاہ کو شرِیعت کی محض اِس ظاہری تعمِیل سے اُوپر اُٹھایا۔ اُس نے یہ بھی آشکار کِیا کہ اِس کا الہٰی مقصد عبادت کا وہ عمل ہے جو ہماری شاگردی کو سنوارتا اور نِکھارتا ہے اور ہمیں اپنے خُدا کے اور قرِیب لے آتا ہے۔

یسعیاہ نے اِنتہائی خُوب صُورتی سے اُن برکتوں کو قلم بند کِیا جِن کا وعدہ اُن لوگوں سے کِیا گیا جو وفاداری سے اِس شرِیعت پر عمل پیرا ہوتے ہیں:

”تب تیری روشنی صبح کی مانند پُھوٹ نِکلے گی اور تیری صحت کی ترقی جلد ظاہر ہو گی۔ …

”تب تُو پُکارے گا، اور خُداوند جواب دے گا؛ تُو چلائے گا اور وہ فرمائے گا، مَیں یہاں ہوں۔“

کتنا پُرشفیق وعدہ ہے: تارِیکی کے بعد روشنی، تھکن کے بعد شِفا، اور تسلّی بخش یقین دہانی کہ جب ہم خُداوند کو پُکاریں، تو وہ قریب ہوتا ہے۔ صدر جوزف ایف سمتھ نے سِکھایا کہ صحیح روزہ ”جِسم کو رُوح کے تابع کر دے گا، اور یُوں رُوحُ القُدس کے ساتھ رفاقت کو فروغ دے گا“ اور کہ ”یہ شرِیعت [ہمیں] خُدا کے اور زیادہ قریب لے آئے گی۔“

پُرخلُوص اور سچّی نِیّت کا روزہ دِل سوز اور بامقصد دُعا کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب ہم عاجزی کے ساتھ اپنے دِلوں کو خُداوند کی طرف لگاتے ہیں، تو روزہ ہماری اُس آرزُو کا اِظہار بن جاتا ہے کہ اُس کے قرِیب آئیں، اپنے دِلوں کی سچّی نِیّتیں اُس کے حُضُور پُہنچائیں، اور اُس کی مرضی کو اپنے واسطے سمجھ پائیں۔ روزہ اور دُعا کے ملاپ کے وسِیلہ سے، اُس کے واسطے ہمارا اِیمان، محبّت، اور عقیدت گہری ہو جاتی ہے۔ ہم زیادہ فروتن بن جاتے ہیں اور خُداوند پر اپنے مُکمل دارومدار کو مزید پہچاننے لگتے ہیں۔ ہمارے دِل نرم ہو جاتے ہیں، ہماری جانیں رُوحُ القُدس کی تاثِیر کو قبُول کرنے کے لِیے زیادہ تیار ہو جاتی ہیں، اور ہم ذاتی مُکاشفہ پانے اور عہد کے راستے پر آگے بڑھنے کے لِیے بہتر طور پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

یہ طریقِ اِلہٰی اپنی اَفضَل ترین اور مُقدّس ترین صُورت میں یِسُوع مسِیح کی زِندگی میں دِکھائی دیتا ہے۔ ہر بات کی طرح، نجات دہندہ نے صِرف اِلہٰی اُصُول ہی نہیں سِکھائے—بلکہ اُس نے اُن کی کامل مثال بن کر دِکھایا۔ اپنی فانی خِدمت کا آغاز کرنے سے پہلے، وہ بیابان میں چلا گیا اور 40 روز اپنے آسمانی باپ کے ساتھ رفاقت میں گُزارے۔ وہ خُدا کا اِکلوتا بیٹا تھا جو مُجسّم ہُوا تھا، اور اُن تمام باتوں میں سے جو وہ اپنی پاک خِدمت کی تیاری کے لیے کر سکتا تھا، اُس نے اپنے باپ کی مرضی کے ساتھ کامِل ہم آہنگ ہونے کے لِیے اِخلاص کے ساتھ روزہ اور دُعا میں گُزارنے کا فیصلہ کِیا۔ رُوحانی تقوّیت پا کر، نجات دہندہ نے دُشمن کی آزمایشوں پر فتح پائی، اپنی فانی خِدمت کا آغاز کِیا، اور دُنیا کے مُخلصی دینے والے کی حیثیت سے اپنی اِلہٰی تقدِیر کو پُورا کِیا۔ اُس کی مثال ہمیں سِکھاتی ہے کہ روزہ اور دُعا ہمارے راستے سے ہر بوجھ کو شاید نہ ہٹائیں، لیکن وہ آسمان کو ہمارے قریب لاتے ہیں اور ہمیں خُدا کی قُدرت سے نوازتے ہیں تاکہ ہم ہر صُورتِ حال کا مُقابلہ کر سکیں یا اُس کو برداشت کر سکیں، اور ہمیں رُوحانی ثابت قدمی فراہم کرتے ہیں تاکہ باپ کی مرضی سے وفاداری نِبھا سکیں۔

اِس پاک طریقِ روزہ کو اِختیار کرنا محض ضبطِ نفس کے کسی جِسمانی اِمتحان یا مخصُوص برکتوں کی مُناجات سے بڑھ کر ہے۔ یہ خُداوند پر اِیمان اور توکل کا بڑا اَفضَل اِظہار ہے، جِس کی بدولت ہمارے دِل شادمانی سے معمُور ہو سکتے ہیں جب ہم اُس کے ساتھ زیادہ گہرائی سے رفاقت قائم کرتے ہیں۔ یہ ہماری تمناؤں کو اُس کے اِرادوں کے ساتھ، اور ہماری اُمِّیدوں کو اُس کی حِکمت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جب جواب ہماری توقع کے مُطابق نہیں مِل پاتے، تب روزہ اور دُعا ہمیں خُداوند پر، اُس کے ساتھ ہمارے عہُود پر، اور ہماری زِندگیوں کی بابت اُس کے منصُوبہ پر زیادہ اِعتماد پَیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں، نِیز اُس کی مرضی کو قبُول کرنے کی زیادہ گہری آمادگی عطا کرتے ہیں۔

اِس پاک شرِیعت کے ذریعہ سے، خُداوند ہمیں اپنی ذات سے آگے دیکھنے اور اپنے دِلوں کو اُس کے بچّوں کی طرف مائل کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یسعیاہ نے سِکھایا کہ قابلِ قبُول روزہ ہمیں ”مظلُوموں کو آزاد کرنے“ اور ”ہر ایک جُوئے کو توڑنے“ میں مدد دیتا ہے۔ نبی جوزف سمِتھ نے ایک دفعہ سِکھایا، ”خُدا کی محبّت سے معمُور کوئی بھی شخص، فقط اپنے خاندان کو برکت دینے پر اِکتِفا نہیں کرتا، بلکہ پُوری دُنیا میں جاتا ہے، اور پُوری نسلِ اِنسانی کو فیض یاب کرنے کے لِیے بےقرار رہتا ہے۔“ یُوں، ہمارا روزہ نہ صِرف خُدا کے حُضُور ذاتی عِبادت کا عمل بنتا ہے بلکہ مسِیح جَیسے عِشق اور محبّت کا ظاہری اِظہار بھی بن جاتا ہے۔

ہمارے دَور میں، ”مظلُوموں کو آزاد کرنے“ اور ”ہر ایک جُوئے کو توڑنے“ میں مدد کرنے کی ہماری خواہش، جَیسا خُداوند نے یسعیاہ نبی کی معرفت سِکھایا ہے، فیاضی سے روزہ کے ہدیہ جات میں ٹھوس اِظہار کی اُمِیّد رکھتی ہے۔ ہر ہدیہ راضی دِل، خُداوند یِسُوع مسِیح پر اِیمان، اور ضرُورت مندوں کو برکت دینے کی پُرخلُوص خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ فیاضی کا یہ جذبہ بھی نجات دہندہ کی ذاتی مثال کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ آسمان سے نِیچے اُترا، بنی آدم کے درمیان میں بسا، اور ”ہر قِسم کے دُکھوں اور مُصِیبتوں اور آزمایشوں کو برداشت کِیا … تاکہ وہ بشریت کے اِعتبار سے جان [جائے] کہ اپنے لوگوں کی کم زوریوں میں اُن کی کیسے مدد کرنی ہے۔“ جب ہم خُدا کی اُمّت کا آسرا بننے کے خواہاں ہوتے ہُوئے اُس کے کامِل نمونہ کی پیروی کرتے ہیں، تو ہمارے دِل دُوسروں کی ضرُورتوں کے لیے کھولے جاتے ہیں، اور ہم مسِیح کی مانِند زیادہ خِدمت کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ ہمارے روزوں کے ہدیہ جات معمُولی اور تھوڑے دِکھائی دیں، وہ رحم، فِکر، اور خِدمت کا تخصِیص شُدہ اِظہار بن جاتے ہیں۔ جب ہم فیاضی سے دیتے ہیں—نہ صِرف ضرُورت مندوں کے فائدے کے لیے بلکہ خُداوند کے لیے اپنی محبّت اور اُس کے امر سے اپنے عزم کے اِظہار کے طور پر بھی—ہم اپنے وسائل اور اپنا وقت دونوں کو اُس کی خاطر مخصُوص کرتے ہیں۔ اَیسا کرنے سے، ہم خُدا کی بادِشاہی کی تعمیر کے لیے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ وقف کرتے ہیں۔ جب ہم تخصیص کی اِس رُوح کو قبُول کرتے ہیں، تو خُداوند ہمیں ہدایت اور تقویت بخشتا ہے کہ اُس کے ہاتھوں میں وسِیلہ بنیں۔

میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ روزہ کی برکتیں کس طرح اکثر لوگوں کی زِندگیوں میں خاموشی اور شفقت سے داخل ہوتی ہیں—دِلوں کو نرم کرتی ہیں، گواہیوں کو مضبُوط کرتی ہیں، جانوں کو پاک کرتی ہیں، اور زِندگیوں کو تبدیل کرتی ہیں۔ مَیں نے اُن لوگوں پر بھی پاک برکتوں کو نازِل ہوتے دیکھا ہے جو روزہ کے ہدیہ جات فیاضی سے ادا کر کے اپنے دِلوں کو خُدا کی اُمّت کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر، مَیں نے اِلہام اور مُکاشفوں کی کثرت کو محسُوس کِیا ہے جب مَیں نے اِس شرِیعت کو زیادہ خلُوص کے ساتھ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ روزہ، جب خُوشی سے رکھا جائے اور دُعا اور فیاضی اِس میں شامِل ہو جائیں تو، خُداوند کے ساتھ شِیریں رفاقت اور اُس کے ساتھ زیادہ گہرا، زیادہ ذاتی تعلُق قائم کرنے کا ضامن ہوتا ہے۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، مَیں آپ کو دعوت دیتا ہُوں کہ سنجِیدگی کے ساتھ یسعیاہ کی تعلیمات پر غَور کریں اور مزید دانستہ طور پر قبُول کرکے روزے کی شرِیعت کے اِلہٰی مقصد کو اَفضَل تر اور پاک تر طریق سے اپنی عِبادت کا حِصہ بنائیں۔ جب آپ اَیسا کرتے ہیں، تو مَیں وعدہ کرتا ہُوں، ہمارے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح کے نام پر، کہ آپ کی زِندگی میں معجزے ہوں گے۔ آپ نجات دہندہ کے قریب تر ہو جائیں گے، اپنی کم زوریوں پر غالب آنے کے لیے ہمت پائیں گے، اور دُوسروں کی ضرُوریات کے لیے زیادہ حساس ہو جائیں گے۔ خُدا کی طرف سے اِس مُقرّر شُدہ عمل کے وسِیلہ سے، خُداوند ہمیں پاک کرے گا اور اپنا رُوح اور رحمتیں زیادہ کثرت سے ہماری زندگیوں میں نازِل کرے گا۔

مَیں اپنی پُروقار گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم خلُوصِ دِل کے ساتھ روزے کے قانون کے پاک مقصد کو یاد رکھتے، بحال کرتے، اور زیادہ کامِل طور پر احترام کرتے ہیں، تو خُداوند یسعیاہ کی معرفت دِیے گئے وعدوں کو پُورا کرے گا: ہماری ”روشنی صبُح کی مانِند پُھوٹ نِکلے گی“؛ ہماری ”صحت کی ترقی جلد ظاہر ہوگی“؛ تب ہم ”پُکاریں گے، اور خُداوند جواب دے گا“؛ ہم چِلائیں گے اور وہ کہے گا، ”مَیں یہاں ہُوں۔“ اِن باتوں کی گواہی مَیں اُس کے مُقدّس نام پر دیتا ہُوں، یعنی جو یِسُوع مسِیح ہے، آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے